ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / انتخابات کے بعد بوتھ کی بنیاد پر گنتی کیوں؟عدالت عظمیٰ نے مرکز سے مانگا جواب

انتخابات کے بعد بوتھ کی بنیاد پر گنتی کیوں؟عدالت عظمیٰ نے مرکز سے مانگا جواب

Tue, 06 Mar 2018 12:54:41    S.O. News Service

نئی دہلی5 مارچ(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) ملک میں انتخابات کے بعد بوتھ کی بنیاد پر ووٹوں کی گنتی کے خلاف دائر مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے مرکز سے پوچھا کہ آخر قانون میں ترمیم کر بوتھ کی بنیاد کی بجائے ساری ای وی مشین سے ایک کے ساتھ شمار کرنے میں کیا پریشانی ہے؟ سپریم کورٹ نے دو ہفتے میں حلف نامہ داخل کر جواب دینے کو کہا ہے۔ وہیں مرکز نے پھر اعادہ کیا کہ اس سے متعلق سیاسی جماعتوں کی میٹنگ ہوئی تھی اور اس میں اس کی مخالفت کی گئی ہے، کورٹ دو ہفتے بعد کیس کی سماعت کرے گا۔ ایک مفاد عامہ کی عرضی میں کہا گیا ہے کہ فی الحال رائے دہی کے شمار کے دوران بوتھ کی بنیاد پر ووٹوں کی گنتی ہوتی ہے جس سے یہ پتہ چل جاتا ہے کہ کس علاقے کے لوگوں نے کس امیدوار کو ووٹ دیئے ہیں ۔ اس سے جیتنے والا امیدوار اس علاقے سے امتیازی سلوک کرتا ہے ،جہاں کے لوگوں نے ووٹ نہیں دیئے ہیں؛ لہٰذا ووٹوں کی گنتی ایک ساتھ ہونی چاہئے۔ اس تناظر میں الیکشن کمیشن نے دلیل دی تھی کہ اسے لے کر مرکزی حکومت کے پاس تجویز بھیجی گئی ہے ۔ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے پوچھا تھا کہ وہ اس اصول کو نافذکیوں نہیں کر رہی ہے۔ سپریم کورٹ میں مرکز نے ایک بار پھراس قدم کو درست مانا ہے ۔ مرکز نے الیکشن کمیشن کی ایک ساتھ ووٹوں کی گنتی کی تجاویز کی مخالفت کی۔ مرکزی حکومت نے کہا کہ بوتھ کی بنیاد پر ووٹوں کی گنتی پارٹی اور امیدوار کے لئے زیادہ تر بہتر ہے؛کیونکہ اس سے پارٹی یا امیدوار کو یہ پتہ چل جاتا ہے کہ کس علاقے میں اس سے زیادہ ووٹ ملے ہیں اور کس حصے میں اس کے اور کام کرنا چاہئے۔ 16ستمبر 2016 کو کابینہ گروپ کی فائنل میٹنگ کی گئی۔ اس میٹنگ میں یہ طے ہوا کہ بوتھ کی بنیاد پر ووٹوں کی گنتی پارٹی اور امیدوار کے لئے بہتر ہے۔ حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ دلیل صحیح نہیں ہے کہ جن علاقے کے لوگوں نے ووٹ نہیں دیا، وہاں جیتنے کے بعد کام نہیں کریں گے۔ عدلیہ کے موقف کے تحت یہ بھی کہا گیا کہ میڈیا کے فعال ہونے کے زمانے میں ممکن نہیں ہے۔ اگر کسی نے ایسا کیا تو میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایسے معاملے فوری طور پروائرل ہونے لگتے ہیں، جس سے عوامی نمائندے اور پارٹی پر دباؤ آئے گا۔


Share: